نتن یاہو کے دورہ ماسکو کے اہدافروس کی اسپوتنک خبر رساں ایجنسی نے بتایا ہے کہ صیہونی حکومت کے وزیر اعظم نتن ياہو 9 مارچ کے اپنے ماسکو کے دورے کے دوران شام کی جنگ سے متعلق مسائل پر روسی صدر ولاديمير پوتين سے مذاکرات کریں گے۔
سعودی حکام کے علاقائی دورے کے رازسعودی عرب کے حکام، ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کے لئے نیٹو کی طرح عربوں کے نام نہاد اتحاد کی تشکیل کی کوشش کر رہے ہیں۔
پورا کشمیر ہمارا ہے : ہندوستانی وزیر خارجہہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے بدھ کو کہا کہ گلگت، بلتستان کو پانچواں صوبہ بنانے کے پاکستان کے اقدامات کو ہم مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔
ماضی اور حال کی اسلامی تحریکوں کا اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جہاں قیادت بابصیرت اور اپنے اھداف میں مخلص تھی وہاں کامیابیاں نصیب ہوئیں اور قربانیاں رنگ لائیں اور جہاں قیادت ۔۔
برطانوی سامراج کا لگایا یہ درخت ایک شجر سایہ دار میں تبدیل ہوکر طالبان،داعش،النصرہ۔الشباب اور بوکوحرام کی صورت میں اسلام اور مسلمانوں کو کھوکھلا کرنے میں پیش پیش ہے ۔
اسلام اور افغانستان کی آذادی کے نام پر وجود میں آنے والا یہ گروہ پاکستان اور افغانستان کے لئے ایک ایسے ناسور میں بدل گیا ہے جو نہ صرف اسلام کو بدنام کرنے میں پیش پیش ہے بلکہ اس کے وجود سے خطے کی اسلامی قوتوں کو بھی شدید نقصان
حزب اللہ کے جانثاروں نے اپنی لہو رنگ جد و جہد سے غاصب صیہونی حکومت کو ایسی شکست دی ہے جس سے خطے میں طاقت کا توازن مکمل طور پر تبدیل ہوتا نظر آرہا ہے اور استقامتی اور مقاومتی محاز
سی آئی اے اور موساد کی مشترکہ کوششوں سے لگایا گیا یہ پودا جسے آل سعود کے خزانوں سے پالا پوساگیا اب عالم اسلام کے ساتھ ساتھ اپنے بنانے والوں کے لئے بھی خطرہ۔۔۔۔
فلسطین کے رہنما خالد البطش نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت نے کبھی بھی معاہدوں کی پابندی نہیں کی ہے اور آج بھی غزہ کے عوام کی صورت حال بحرانی ہے۔
جہاد اسلامی فلسطین کے اعلی عہدیدار خالد البطش نے کہا ہے کہ غزہ کے عوام کی صورت حال صیہونی حکومت کی جاری خلاف ورزیوں کی بنا پر ابتر ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا ...
فلسطین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور کرتی رہے گی- بدرالدین الحوثی نے کہا کہ سعودی عرب کو اس جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ جس کو سب سے زیادہ فائدہ حاصل ہوگا وہ اسرائیل ہے- انہوں نے کہا کہ آج حملوں کا جاری رہنا جارح حکومتوں کے چہرے پر بدنما داغ ہے اور جنگ بندی ایک ضروری امر ہے-
فلسطین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور کرتی رہے گی- بدرالدین الحوثی نے کہا کہ سعودی عرب کو اس جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ جس کو سب سے زیادہ فائدہ حاصل ہوگا وہ اسرائیل ہے- عبدالمالک نے اپنی گفتگو کے دوسرے حصے میں فلسطینی عوام کے ساتھ یمنی عوام کی یکجہتی اور ہمدلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا صیہو ...
فلسطینی گروہوں پر کافی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ تحریک حماس اس وقت قطر کے قبضے میں ہے اور سب جانتے ہیں کہ غزہ پر حماس کی حکومت ہے۔ قطر کی پالیسیوں نے حماس کو بھی کافی حد تک متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ حماس نے مصر میں اخوان المسلمین کے سابق صدر کی حکومت سے قریبی تعلقات قائم کرلئے تھے، ...
فلسطین میں الوقت- اقوام متحدہ میں شام کے نمائندے نے کہا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کو اسرائیل میں تربیت دی جاتی ہے-
اقوام متحدہ میں شام کے نمائندے بشار جعفری نے کہا ہے کہ دہشت گرد گروہوں جیش الفتح، جیش الیرموک اور جبہۃ النصرہ کے عناصر کو مقبوضہ فلسطین میں تربیت دی جاتی ہے- بشار جعفری نے مزید کہا کہ ہما ...
فلسطینی شہید اور گیارہ ہزار زخمی ہوئے تھے- اسرائیل کی اس جارحیت میں ہزاروں رہائشی مکانات اور تجارتی و مذہبی مقامات بھی تباہ ہوگئے تھے- اس کے باوجود عالمی برادری نے ان حملوں کے نتیجے میں تباہ ہوجانے والے علاقوں کی تعمیر نو کے اپنے وعدے پر ابھی تک عمل نہیں کیا ہے
فلسطین کے اندر کے خطروں کو خاموش کرکے مقبوضہ فلسطین کے باہر کے خطروں سے نمٹنے کی منصوبہ بندی الوقت- حال ہی میں صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتین یاھو نے فلسطین کی نام نہاد خود مختار انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس کو پیغام دیا ہے کہ وہ جلد از جلد ان کے ساتھ مذاکرات کرنے کو تیار ہیں۔ صیہونی حکومت اور خو ...
فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان امن بات چیت کی بحالی کے سلسلے میں پیش کیے گئے فارمولے کو بھی مسترد کردیا۔ حماس کے ترجمان اسماعیل رضوان نے کہا کہ فلسطینیوں کے حقوق میں افراط وتفریط کرنیوالے کسی بھی غیرملکی فارمولے کو قابل قبول نہیں سمجھا جا سکتا۔
فلسطینی کاز سے خیانت کرنے والی حکومتیں کہا جاتا ہے ان میں سرفہرست سعودی عرب اور مصر ہیں۔ یاد رہے چھے روزہ جنگ میں صیہونی حکومت نے مصر شام اور لبنان کے بعض حصوں پر قبضہ کرلیاتھا۔
حقیقت یہ ہےکہ صیہونی حکومت کی نظر میں قدس شریف ایک جیو اسٹراٹیجیک شہر ہے۔ اس شہر کی صیہونی حکومت کی نظرمیں اتنی اہمیت ہے ...
فلسطین اور صیہونی حکومت کے حوالے سے پالیسیوں مین تضاد ہے جسکو ہرباشعور شخص بڑی آسانی سے سمجھ
الوقت- ترکی کی خارجہ پالیسی ایک گورکھ دھندے کی مانند ہے جسکا صحیح ادراک اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے اس ملک کی قیادت ایک طرف خلافت عثمانیہ کے احیا کی خواہشمند ہے تو دوسری طرف یورپی یونین کا ممبر بننے ...