الوقت - کچھ مغربی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ صوبہ الانبار کے شہر فلوجہ میں عراقی فوج اورعوامی رضاکار فورس کی پیشرفت، عام شہریوں کی جان کی حفاظت کی وجہ سے سست ہے۔
روئٹرز نے فلوجہ کی مہم کے بارے رپورٹ میں شائع کی جس میں رضاکار فورس کے کمانڈروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ مرکز شہر کی جانب اسی صورت میں پیشرفت ہو سکتی ہے جب عام شہری پوری طرح سے شہر چھوڑ دیں۔ رضاکار فورس کے ایک کمانڈن ہادی العامری کا کہنا ہے کہ جب تک عام شہری، فلوجہ شہر میں موجود ہیں ہم شہر میں داخل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ اگر شہر سے عام شہری نکل جائیں گے تو آپ کیا کریں گے؟ کہا کہ جیسے ہی شہر سے عام شہری نکلیں گے، ہم فورا شہر میں داخل ہوں گے اور اس شہر کو داعش کے شیطانی وجود سے پاک کر دیں گے۔
فرانس کے چینل - 24 نے بھی رپورٹ دی ہے کہ فلوجہ میں سیکورٹی فورس اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں کی پیشرفت، شہر میں عام شہریوں کی موجودگي کی وجہ سے سست پڑ گئی ہے۔ فلوجہ سے رپورٹ دینے والے اس ٹی وی چینل کے رپورٹر عون حلداوی نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ داعش کے دہشت گرد کہ ایک اندازے کے مطابق جن کی تعداد 500 سے 900 کے درمیان ہے، مرکز شہر میں عام شہریوں میں مل گئے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ رضاکار فورس کی پیشرفت سست ہوگئی ہے ۔ ان سب کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایام، فلوجہ پر داعش کے قبضے کے آخری ایام ہیں۔ رضاکار فورس کے جوان ، عراق کی مرجعیت کی سفارش کی بنیاد پر فلوجہ شہر کے عوام کی جان و مال کی حفاظت کو بہت زیادہ مد نظر رکھ رہے ہیں اور ان کی حفاظت نیز خواتین، بچوں اور بزرگ سال افراد اور عام شہریوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کو بہت زیادہ اہمیت دے رہے ہیں تاکہ یہ تمام اخلاق فاضلہ اور بہادری و شجاعت ہمیشہ کے لئے تاریخ بن جائے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، فلوجہ میں تقریبا 50 ہزار شہری موجود ہیں اور کھانے پینے کی اشیاء نیز دواؤں تک ان کی رسائی محدود ہے۔ کچھ شہریوں نے دریائے فرات کے راستے سے خود کو داعش کے چنگل سے آزاد کرا لیا۔ عوام کی جانب سے فرار ہونے کی یہ روش بہت خطرناک ہے۔ کل جنوبی فلوجہ کے علاقے الحصی کے 13 افراد جب وہ دریائے فرات سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے، داعش کی جانب سے ایک کاروائی کے بعد غر ق ہوگئے۔ غرق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
ان تمام مسائل کے باوجود، فلوجہ میں داعش کے خلاف کاروائی جاری رہے گی۔ عراق کی رضا کار فورس کے ترجمان کریم النوری کا کہنا ہے کہ عراقی سیکورٹی اہلکاروں نے فلوجہ کے اطراف اور نواحی علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد، فلوجہ میں داعش کے خلاف محاصرے کا حلقہ بہت زیادہ تنگ کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ عراقی فوج اور رضاکار فورس نے 23 مئی کو وزیر اعظم حیدر العبادی کے حکم پر صوبہ الانبار کے شہر فلوجہ کو داعش کے قبضے سے آزاد کرانے کی مہم شروع کی ہے۔ اس آپریشن میں رضاکار فورس، سیکورٹی اہلکار اور قبائل کے تقریبا 22 ہزار افراد موجود ہیں۔ حال ہی میں سیکورٹی اہلکاروں اور رضاکار فورس کے جوانوں نے داعش کے چنگل سے فلوجہ کے کئی نواحی علاقوں کو آزاد کرایا تھا اور ان کی توجہ اس شہر کے مرکز پر مرکوز ہے۔ داعش کے سرغنہ مسلح افواج کی فلوجہ سے توجہ ہٹانے کے لئے صوبہ الانبار میں مختلف حملے کئے۔ کل بھی داعش کے دہشت گردوں نے صوبہ صلاح الدین اور الانبار کے کچھ فاصلے پر واقع مکحول علاقے پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا جس کو سیکورٹی اہلکاروں اور رضاکار فورس نے بر وقت ناکام بنا دیا۔ اس کاروائی میں داعش کے تقریبا 30 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔