الوقت - ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں عسکریت پسند گروہ حزب المجاہدین کے کمانڈر کے مارے جانے کی مخالفت میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جس کے دوران ہونے والے جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 16 ہوگئی ہے۔ اب تک کے اس واقعے میں 200 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
پولیس کے ایک اہلکار نے کہا کہ آج صبح پلوامہ کے نیوا میں مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں 18 سال کا ایک نوجوان شدید زخمی ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ عرفان احمد ملک کو یہاں واقع ایس ایم ايچ ایس ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہاں اس نے دم توڑ دیا۔ پولیس افسر نے کہا کہ کل کی پر تشدد جھڑپوں میں زخمی ہوئے چار افراد نے رات کو دم توڑ دیا تھا۔
کشمیر کے زیادہ تر علاقوں میں پرتشدد احتجاج شروع ہو گئے۔ جنوبی اضلاع پلوامہ، اننت ناگ اور کولگام سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ اب تک ملی پختہ معلومات کے مطابق، 96 سیکورٹی اہلکار سمیت 200 سے زیادہ لوگ دن بھر جاری رہی جھڑپوں میں زخمی ہو گئے تھے۔ اس دوران مظاہرین نے تین پولیس کیمپوں، تین شہری انتظامیہ کے دفاتر، پی ڈی پی کے ایک رکن اسمبلی کے گھر اور کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی تھی اور بی جے پی کے دفتر کو نشانہ بنایا تھا۔
در ایں اثنا، کشمیر کے مختلف حصوں میں آج دوسرے دن بھی احتیاط کے طور پر کرفیو نافذ رہا۔ جھڑپوں کے دوران ہوئی ہلاکتوں کی مخالفت کرنے کے لئے علیحدگی پسند گروہوں کی جانب سے کی گئی بند کی اپیل سے وادی کشمیر میں عام زندگی متاثر ہوئی ہے۔ سید علی شاہ گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق سمیت علیحدگی پسند لیڈروں کو نظر بند رکھا گیا ہے جبکہ محمد یاسین ملک کو احتیاطا حراست میں لیا گیا ہے۔