الوقت- يمن پر آل سعود كے حملوں كو دو ماہ كا عرصہ ہونے كو ہے ليكن اس جارح حكومت كو يمن ميں مطلوبہ مقاصد حاصل نہيں ہوئے ہيں۔وہ ان حملوں كے زريعے نہ تو انصار اللہ كو عدن سے دور كرنے اور نہ ہي بھگوڑے منصور ہادي كو واپس يمن لانے ميں كامياب ہوسكا ہے حالانكہ سعودي چينل چيخ چيخ كر يہ كہہ رہے ہيں كہ سعودي حكومت اپني پوري توانائيوں كو بروئے كار لا كر يمن ميں اپنے مطلوبہ اہداف حاصل كرنے كي كوشش كررہي ہے ۔مغربي اداروں اور تنظيموں كي طرف سے سامنے آنے والي رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے كہ آل سعود انصاراللہ كو شكست دينے كے لئے اپني تمام تر فوجي قوت كو بروئے كار لا رہي ہے اور اس نے سعودي عرب كو جديد ہتھياروں كي خريد كي سب سے بڑي منڈي ميں تبديل كرديا ہے ۔مستند رپورٹوں كے مطابق سعودي عرب نے 2013 اور 2014 ميں چھ اعشاريہ چار ارب ڈالر كا اسلحہ صرف امريكہ سے خريدا ہے ۔جديد ترين ہتھياروں اور وسيع عالمي حمايت كے باوجود سعودي عرب كو يمن ميں اپنے اہداف حاصل كرنے ميں شديد ناكامي كا سامنا كرنا پڑ رہا ہے دوسري طرف يمنيوں نے پرانے اور روايتي ہتھياروں سے جارحين كو ناكوں چنے چبوا دئيے ہيں۔يمني مجاہدين نے اس صورت حال ميں بھي سعوديوں كي كم سے كم پانچ فوجي چوكيوں پر قبضہ كيا ہے جس ميں نجران كي چوكي نمبر سات بھي شامل ہے
ان چوكيوں پر موجود تمام سعودي فوجي انتہائي زلت آميز طريقے سے فرار كررہے ہيں. كينيڈا كے گلوبل ريسرچ كي رپورٹ كے مطابق سعودي فوج كے چار ہزار سپاہي يمني كے حملوں سے خوف ذدہ ہوكر فوج سے بھاگ گئے ہيں۔ايك اور رپورٹ كے مطابق دس ہزار فوجي اپني چھاونيوں اور نيشنل گارڈ كو چھوڑ كرفرار كرگئے ہيں۔
سعودي فوجيوں كے اس فرار سے پتہ چلتا ہے كہ ان ميں يمني انقلابيوں سے لڑنے كا معمولي حوصلہ بھي نہيں ہے حالانكہ يمني بيچاروں كے پاس نہ تو جديد ہتھيار ہيں اور نہ ہي وہ جديد ہتھياروں سے جنگ كرنے كا طريقہ جانتے ہيں۔اب يہان پر سوال يہ اٹھتا ہے كہ سعودي فوجيوں ميں لڑنے كا حوصلہ اور ہمت كيوں نہيں ہے
اور انكي شكست كي اصلي وجہ كيا ہے۔اس سوال كے جواب ميں يہ كہا جاسكتا ہے كہ اسكي دو بنيادي وجوہات ہيں۔پہلي بات تو يہ ہے كہ يمنيوں پر چونكہ جنگ مسلط كي كئي ہے اور انكے گھر پر حملہ كيا گيا ہے لہزا ان كا جوش وجذبہ ايك فطري ردعمل ہے اور وہ اپنے وطن،عزت اور ناموس كے حفاظت كے لئے سردھڑ كي بازي لگائے ہوئے ہيں۔ دوسري طرف سعودي فوجيوں كے ہاں اسطرح كا جذبہ سرے سے ہي ناپيد ہے لہذا وہ بڑي اساني سے ميدان جنگ سے بھاگ جاتے ہيں۔اسكے ساتھ دوسري اہم وجہ يہ بھي ہے كہ سعودي فوج ميں ايك بڑي تعدار كرائے كے فوجيوں كي ہے جن ميں يورپيوں كي بھي ايك بڑي تعدار ہے جن ميں جنگ لڑنے كا كوئي ولولہ ہي نہيں ہے ۔ايك رپورٹ كے مطابق آل سعود نے انتہائي مہنگے داموں سے مغربي ممالك كے دوہزار فوجي اپني فوج ميں شامل كئے ہيں۔
اس شكست كي ايك اور وجہ سعودي فوج كے پاس جديد ہتھياروں كي موجودگي ہے جس كو استعمال كرنے كا طريقہ سعودي فوجيوں كو نہيں آتا اس وقت امريكي فوجي سعودي فوجيوں كو جديد ہتھياروں كي تربيت دے رہے ہيں۔نيويارك ٹائمز كي رپورٹ كے مطابق امريكہ نے سعودي عرب كو بغير پائلٹ كے ڈرون جاسوسي طيارے دئيے ہيں جو يمن كي حدود ميں پرواز كركے ضروري انٹيليجنس معلومات سعودي فوج كو فراہم كرتے ہيں۔اس اخبار كي رپورٹ كے مطابق ان معلومات كو فوجي ماہرين كي ايك بيس ركني كميٹي كو ديا جاتا ہے جس ميں امريكہ،قطر،بحرين اور سعودي عرب كے فوجي ماہرين شامل ہيں۔يہ كميٹي مشرق وسطي ميں تعينات امريكہ بحريہ كے كمانڈر كارل مونڈي كي سربراہي ميں كام كررہي ہے ۔سعودي عرب كو بيروني خاص كر امريكي ماہرين كي اس لئے بھي ضرورت ہے كہ امريكہ نے جديد ہتھيار فروخت كرتے ہوئے يہ شرط بھي عائد كي تھي كہ ان ہتھياروں كي تربيت اور ديگر امور ميں امريكيوں كے علاوہ كوئي مداخلت نہيں كرے گا۔بہرحال زميني حقائق يہ كہہ رہے كہ علاقے ميں جديد ہتھياروں كا سب سے بڑا خريدار اور جديد ٹيكنالوجي كا حامل ملك ايك ايسے ملك كے فوجيوں سے مسلسل شكست كھا رہا ہے جن كے پاس نہ تو جديد ہتھيار ہيں اور نہ ہي فوجي ماہرين كي ٹيم۔يہي وجہ ہے كہ اس جنگ اور سعودي فوجيوں كے بارے ميں لطيفے اور مذاحيہ قصے زبان ذد خاص و عام ہيں۔معروف تجزيہ نگار بيل لو نے مڈل ايسٹ آن لائن نامي سائيٹ پر اپنے ايك مقالے ميں لكھا ہے كہ سعودي عرب كي فوج ايك فوج سے زيادہ ايك لطيفہ ہے