الوقت-افغانستان ميں قومي وحدت پر مبني كابينہ كي تشكيل ميں تاخير كي وجہ سے اس ملك كے بہت سے امور بري طرح متاثر ہورہے ہيں۔ماہرين كا كہنا ہے كہ افضل لوديں كي وزيردفاع كي حيثيت سے منظوري نہ ہونے اور انكي جگہ پر كسي اور وزير دفاع كو نامزد نہ كرنے كي وجہ سے سيكوريٹي مسائل ميں اضافہ ہورہا ہے ۔كابينہ كے مكمل نہ ہونے اور وزير دفاع سميت اہم عہدوں پر افراد كي عدم نامزدگي كو حكومت كي كمزوري سمجھا جارہا ہے اور سلامتي كے موجودہ مسائل منجملہ داعش كي سرگرميوں ميں اضافے كو بھي اسي تناظر ميں ديكھا جارہا ہے ۔كابينہ كے مكمل نہ ہونے اور اہم عہدوں پر افراد كي عدم تعيناتي پر افغان عوام ميں غم و غصہ بڑھ رہا ہے اور حكومت كو خبردار كيا جارہا ہے كہ اگر صورت حال اسي طرح رہتي ہے تو عوام انہيں اقتدار سے ہٹا ديں گے۔اعتراض كرنے والوں كا يہ موقف ہے كہ گذشتہ ہفتے حكومت كے اہم افراد اپنے زاتي جھگڑوں ميں مشغول رہے اور انہوں نے اہم حكومتي امور اور عوام كے مسائل كے حل ميں كوئي خاص توجہ نہيں دي۔انہي اعتراضات كے پيش نظر افغان پارليمينٹ كے اسپيكر عبدالرؤف ابراہيمي نے قومي وحدت كے اہم رہنماؤں پر زورديا ہے كہ وزيردفاع كے لئے كسي كو فوري طور نامزد كيا جائے اور منظوري كے لئے پاليمينٹ ميں زير بحث لايا جائے كيونكہ ملك ميں وزيردفاع كي عدم نامزدگي كو ملك كي بد امني كي بڑي وجہ قرار ديا جارہا ہے پارليمنٹ كے اسپيكر نے مختلف صوبوں كے والي بھي جلد مقرر كرنے پر تاكيد كي ہے ۔كہا جارہا ہے كہ وزير دفاع كي عدم موجودگي كي وجہ سے سيكوريٹي كي صورت حال ملك كے سيكوريٹي اداروں كے ہاتھ سے نكلي جارہي ہے ۔
افغانستان كا شمار ان ملكوں ميں ہوتا جسكي سب سے بڑي مشكل سلامتي اور امن و عامہ كے مسائل ہيں۔افغانستان ميں امن و امان كو دو بڑے چيلنجوں كا سامنا ہے ۔اس ملك كے كئي مسائل كے حل اور بہتري كا بھي ملك كي سيكوريٹي سے گہرا تعلق ہے۔ملك ميں بدامني كي ايك وجہ اس ملك كي بدانتظامي اور حكومت مخالف گروہوں كا حكومت كے خلاف روزبروز مستحكم ہونا اور تيزي سے پھيلاؤ ہے۔بيروني عوامل ميں غير ملكي طاقتوں كي ديرينہ مداخلت ہے جس سے ملك كو سلامتي كے مسائل كا سامنا كرنا پڑتا ہے ۔امن و امان كي بري صورت حال كے علاوہ نيچے سے اوپرتك بدعنواني كا راج ہے ۔مالي بد عنوانيوں كے علاوہ اختيارات كے بے جا استعمال اور حكومت كا متمركز نہ ہونا بھي اس ملك كے اہم مسائل ميں شامل ہے ۔مذكورہ وجوہات كي بنياد پر سياسي رقابتوں اور قومي رہنماؤں كے درميان تضادات ميں اضافہ ہورہا ہے جسكا ملكي مسائل بالخصوص اقتصاد پر منفي اثرات كا مرتب ہونا ايك لازمي امر ہے۔ان تضادات كي وجہ سے بے روزگاري جيسے مسائل ميں بھي مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔انتخابي عمل ميں غير ضروري طوالت اور اسكے بعد كابينہ كي تشكيل ميں غير معمولي تاخير نےملكي نظام كو درہم برہم كرديا ہے اور ملك كمزور سے كمزور تر ہورہا ہے
جسكي وجہ سے غير ملكي مداخلت كے لئے زميں ہموار ہوئي. افغانستان ميں بدامني كي ايك بڑي وجہ امريكي موجودگي بھي ہے يہي وجہ ہے كہ افغان پارليمنٹ كے بعض اراكين نے نام ليكر امريكہ كو اس ملك كي بربادي اور بدامني كا ذمہ دار ٹھرايا ہے ۔
.تجزيہ كاروں كي نظر ميں اگر امريكہ نے اپنے اھداف كے حصول كے لئے افغان حكومت كے ساتھ اسٹراٹيجك معاہدہ كيا ہے تو امريكہ اس پر عمل درآمد كيوں نہيں كررہا ہے كيونكہ آگر وہ اس معاہدے پر نيك نيتي سے عمل كرتا تو افغانستان كے شمالي علاقوں ميں سيكوريٹي كي يہ صورت حال نہ ہوتي .ماہرين كا كہنا ہے كہ جب سے يہ معاہدہ ہوا ہے افغانستان ميں بد امني ميں اضافہ ہوا ہے . بہرحال اس ميں كوئي شك نہيں كہ وزير دفاع كے حساس عہدے كے لئے ايك مضبوط اور متحرك فرد كي ضرورت ہے ليكن اس نكتے پر بھي توجہ ركھني چاہيے كہ ملك ميں امن و امان كي برقراري وزير دفاع كي تقرري سے زيادہ اہم ہے ۔افغانستان ميں مختلف اداروں بالخصوص سيكوريٹي اداروں كے درميان ہم آہنگي اور قومي وحت پر مبني حكومت كے درميان ملكي مسائل كے حل كے لئے مشتركہ لائحہ عمل كي اشد ضرورت ہے تاہم اس وقت افغانستان جس صورت حال سے گزر رہا ہے اس ميں فوري طور پر امن و امان كي برقراري اور سياسي استحكام كے امكانات بہت كمزورنظر آرہے ہيں۔