یمن پر امریکی جارحیت نے اس بات کو ثابت کردیا ہے کہ خلیج فارس کے بعض ممالک خطے کو ایک ایسے بحران میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں جس کے حتمی نتیجے کے بارے میں وہ خود بھی کچھ نہیں جانتے۔خلیج فارس کے یہ ممالک پہلے بھی بعض ایسے اقدامات انجام دے چکے ہیں جن سے علاقے میں کشیدگی بڑھی ہے اس کی ایک مثال عربوں کی مشترکہ فوج تشکیل دے کر خطے میں ایران اور شام کو دھمکانا اور امریکی مفادات کو پورا کرنا ہے اسکے علاوہ یہ کونسل اپنے ہراجلاس میں ایران کے تین جزیروں تنب کوچک،تنب بزرگ اور ابو موسی کے عنوان سے بے بنیاد قراردادیں منظور کرکے ایران و فوبیا کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ خلیج فارس کے چھے عرب ممالک نے جو سعودی عرب، قطر کویت، عمان، متحدہ عرب امارات اور بحرین سے عبارت ہیں مئي انیس سو اکیاسی میں یعنی ایران پر خونخوار صدام کی مسلط کی ہوئي جنگ کے شروع ہونے کے آٹھ مہینے بعد خلیج فارس تعاون کونسل کے نام سے ایک کونسل قائم کی۔ اس کونسل کا مقصد جیسا کہ اعلان کیا گيا تھا ان چھے عرب ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون میں فروغ لانا تھا لیکن عملی طور پر دیکھا گيا کہ ان ملکوں نے سکیورٹی تعاون میں فروغ لانے کی کوشش کی۔ خلیج فارس تعاون کونسل ایسے وقت میں تشکیل پائي تھی جب دیگر ملکوں میں علاقائي تنظیمیں تشکیل دینے اور علاقائي سطح پر تعاون کرنے کی طرف کافی رجحان بڑھ گيا تھا۔ دراصل انیس سوستر کی دہائي کے اواخر اور انیس سو اسی کے ابتدائي برسوں میں ملکوں کی خارجہ پالیسی میں علاقائيت کو کافی اہمیت حاصل ہوگئی تھی اور مختلف ممالک اس امر کو کافی اہمیت دینے لگے تھے۔ اس امر کے پیش نظر خلیج فارس تعاون کونسل کے بارے میں اس نکتے کی نہایت اہمیت ہےکہ اس کونسل کی کارکردگي سے علاقائی تعاون کی بو تک نہیں آتی کیونکہ اس کونسل میں گرچہ سیاسی مذہبی اور اقتصادی لحاظ سے مشترکہ تعاون اور مذہبی نیز قومی اتحاد کے سارے اسباب و علل پائے جاتے ہیں لیکن اس کونسل کے ملکوں کی کارکردگي سے صاف ظاہر ہے کہ اتحادی اسباب کا اثر نہایت کم رہا ہے اور اختلافات نے انہیں ایک دوسرے سے دور رکھا ہے۔
خلیج فارس تعاون کونسل کے ملکوں کے درمیاں دیرینہ سرحدی مسائل ان کے اختلافات کا بنیادی سبب ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ تقریبا تمام اراکین کے سرحدی اختلافات نیز بحرین اور قطر کے سرحدی اختلافات نے ان ملکوں کو ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تعاون کرنے سے باز رکھا ہے۔ ان ملکوں کے مابین سرحدی اختلافات کے علاوہ فکری اختلافات بھی ہیں جو گذشتہ دہائي میں اپنے عروج کو پہنچ چکے تھے۔ ایک طرف سے سعودی عرب کی رجعت پسند حکومت کونسل کے رکن ملکوں کی حکومتوں میں کسی بھی طرح کی سیاسی اصلاحات کی مخالف ہے اور اسے اپنے مفادات کے لئے خطرہ سمجھتی ہے تو قطر کی حکومت رکن ملکوں کے اندر بنیادی سیاسی اصلاحات پر زور دیتی ہے۔ ان ہی مسائل کی بنا پر خلیج فارس تعاون کونسل جیسی چھوٹی سی سیاسی تنظیم شدید اختلافات کا شکار رہی البتہ ان باتوں سے ہٹ کر ایک اہم سبب جو اس کونسل کے تمام اراکین کی پریشانی کا سبب ہے وہ سعودی عرب کا تسلط پسندانہ رویہ ہے۔ سعودی عرب نے اس تنظیم کو ہمیشہ اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا اور یمن کے حوالے سے بھی آل سعود سابقہ کردار کو اپنا رہی ہے ۔گذشتہ دنوں سعودی عرب کے شہرریاض میں خلیج فارس کے عرب ملکوں کی تعاون کونسل کا اجلاس ہوا۔ اس نشست میں علاقے کے مختلف مسائل کے ساتھ ساتھ یمن اور بقول اس کونسل کے یمن میں ایران کی موجودگی کا جائزہ لیا گیا۔ اس نشست میں فرانس کے صدر فرانسوا اولان کو بھی شرکت کی دعوت دی گئي تھی اور اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ اجلاس کن مقاصد کے لئے تھا۔ واضح رہے فرانس کے صدر نے اپنے ہتھیاروں اور جنگي طیاروں کو فروخت کرنے کے لئے مشرق وسطی کادورہ کیا تھا۔فرانسیسی صدر کے دورہ سعودی عرب کے موقع پر ریاض اور پیریس نے ایک مشترکہ اعلان جاری کیا تھا جس میں دونوں ملکوں کے سیاسی اور اقتصادی نیز اسٹراٹیجیک نقشہ راہ کی بات کی گئي ۔ فرانس نے یمن پر آل سعود اور اسکے اتحادیوں کی وحشیانہ جارحیت کی حمایت کی ہے لھذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ سعودی عرب اور فرانس کے درمیان بہت سے مشترکات پائےجاتے ہیں۔ فرانسوا اولان نے سعودی بادشاہ کی دعوت پر سعودی عرب کا دورہ کیا۔ فرانسیسی صدر نے ریاض کا دورہ شروع کرنے کے موقع پر الریاض اخبار کے ساتھ انٹرویو میں دعوی کیا تھاکہ خلیج فارس کے عرب ممالک کے حکام اور عوام کو ایران کے ایٹمی پروگرام پر تشویش لاحق ہے اور ہم اس بات کی کوشش کریں گے کہ علاقے میں سکیورٹی قائم رہے۔ خلیج فارس تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس میں فرانسوا اولان کو شرکت کی دعوت دینے سے ایران کے خلاف عرب ملکوں اورفرانس کا یہ اتحاد زیادہ واضح ہوجاتا ہے۔ ادھر امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے صیہونی حکومت کے ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے ایران کے ایٹمی پروگرام کو خطرہ ظاہر کیا اور کہا وہ اس سلسلے میں خلیج فارس کے ملکوں سے گفتگو کررہے ہیں۔ جان کیری نے گذشتہ ماہ بھی ریاض کا دورہ کیا تھا اور اس دورے میں اٹامک امبریلا کی بات کی تھی۔ اخبار الحیات نے اس موقع پر انکشاف کیا تھا کہ اٹامک امبریلا پروگرام کے تحت امریکہ علاقے کے ملکوں کو ایٹمی حملوں سے محفوظ رکھے گا اور یہ پروگرام اسی طرح سے ہے جیسے امریکہ نے جاپان، جنوبی کوریا اور نیٹو کے ملکوں کو ایٹمی حملوں سے تحفظ دینے کا پروگرام بنایا ہے۔
قابل ذکرہے خلیج فارس تعاون کونسل نے علاقے میں بیرونی طاقتوں کی موجودگي اور علاقے میں بدامنی پھیلانے میں منفی کردار ادا کیا ہے اور آج بھی یہی کردار ادا کررہی ہے۔ خلیج فارس تعاون کونسل نے ایران اور علاقے کے مسائل کے تعلق سے غلط پروپگینڈا اور مواقف اپنا کر علاقے میں بیرونی طاقتوں کی موجودگي کی زمین ہموار کی ہے۔اسی صورتحال میں امریکہ اور فرانس کی جانب سے عرب ملکوں کو اربوں ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت سےعلاقائي ملکوں کو تقسیم کرنے کی سامراجی طاقتوں کی سازشیں آشکار ہوجاتی ہیں اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سامراج نے خلیج فارس کے علاقے کے لئے طویل مدت سازشیں بنارکھی ہیں۔دوسری طرف خلیج فارس کے عرب ممالک کم از کم اس بات پر تو یقین رکھتے ہی ہیں کہ ایران کبھی بھی علاقے میں کشیدگي اور دوسرے ممالک کےخلاف جارحانہ عزائم کا حامل نہیں رہا ہے جبکہ یہ ممالک خود گذشتہ دہائيوں میں ہمیشہ سے علاقے میں بحران اور بے اعتمادی پھیلانے کی سازشوں میں مصروف رہے ہیں اور انہوں نے ہر بار کسی نہ کسی بہانے سے بیرونی ملکوں کی موجودگي کی زمین ہموار کی ہے۔ خلیج فارس کے عرب ملکوں نے عراق پر صدام کے زمانے میں صدام سے فوجی، مالی اور ہمہ گيرامداد دینے کا وعدہ کرکے اسے ایران پر حملہ کرنے پر اکسایا اور آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ میں صدام کا بھرپور ساتھ دیا اور ایران کی مخالفت کی۔ آخر کار یہ ممالک بھی خود صدام کی جارحیت کا شکار ہوگئے اس کی مثال کویت پر صدام کا حملہ اور قبضہ ہے۔ آج بھی سعودی عرب اسی طرح کی اسٹراٹیجیک غلطی کرکے یمن پر حملے کررہا ہے اور وہ یقینا اس جنگ میں کامیاب نہیں ہوگا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ خلیج فارس تعاون کا شرم الشیخ کا سربراہی اجلاس کیا رنگ لاتا ہے۔