الوقت کی رپورٹ کے مطابق اتوار کی شام امریکی ریاست ٹیکساس کے شمال مشرقی علاقے گارلینڈ میں واقع کرٹس کل ویل سینٹر میں گستاخانہ خاکوں کی نمائش کےدوران دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
داعش کے البیان ریڈیو پر نشر ہونے والے پیغام میں کہا گیا ہے کہ 'آرٹ سینٹر میں حضرت محمد (ص) کے گستاخانہ خاکوں کی نمائش جاری تھی'۔
رپورٹ کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہے کہ داعش نے امریکا میں کسی حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
داعش کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم امریکا کو بتا رہے ہیں کہ وہاں اس سے بھی زیادہ بڑا اور خوفناک واقعہ رونما ہو سکتا ہے ۔
داعش کی جانب سے امریکہ میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے نائن الیون کے واقعہ کی یاد تازہ ہو جاتی ہے جس میں امریکہ کے ہی بنائے ہوئے دھشتگرد تنظیم القاعدہ نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کی جس کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر کے اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور اس کے بعد اسلامی ممالک کے خلاف امریکہ نے اپنے سازشی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا شروع کر دیا جبکہ اس بار امریکہ داعش کے ذریعے اپنے منصوبوں کو آگے بڑھانا چاہتا ہے اور اسی مقصد کے تحت ہی داعش نے امریکہ میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی تا کہ امریکہ کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کارروائی کرنے کا بہانہ مل جائے۔ حالانکہ یہ بات سب جانتے ہیں کہ داعش کو بنانے میں امریکہ ، اسرائیل اور سعودی عرب کا ہاتھ ہے۔