الوقت- مجموعي طور پر پاكستان اور افغانستان جغرافيائي، ثقافتي اور قومي مشتركات كي وجہ سے كافي قريب سمجھے جاتے ہيں ليكن ان دونوں ممالك كے مابين ہميشہ ہي كافي كشيدگي بھي ديكھنے كو مليں جيسا كہ افغانستان كے سابق صدر حامد كرزئي نے پاكستان پر دھشتگردي كي حمايت كرنے كا الزام عائد كيا ليكن موجودہ افغان صدر اشرف غني پاكستان كے ساتھ 13 سال سے جاري كشيدگي كو سفارتكاري كے ذريعے حل كرنے كي كوششوں ميں ہيں۔ اس سلسلے ميں اشرف غني پاكستان كے ساتھ قربت بڑھا كر طالبان كے چيلنجوں كا مقابلہ كر كے طالبان پر غلبہ حاصل كرنا چاہتے ہيں اور اسي سلسلے ميں افغان صدر اشرف غني نے اسلام آباد كے ذريعے امن مذاكرات شروع كرنے كيلئے طالبان پر دباو بڑھانے كے اپنے ايجنڈے كے تحت حاليہ ہفتوں كے دوران پاكستان كو كچھ مراعات بھي ديں جن ميں سے اسلام آباد كي درخواست پر دھشتگردوں كے خلاف كاروائي كرنے كي اجازت كي جانب اشارہ كيا جا سكتا ہے ۔ تاہم يہ وہ بات ہے كہ جس كا حامد كرزئي كي صدارت كے موقع پرتصور بھي نہيں كيا جا سكتا تھا۔ ليكن افغان عوام كي جانب سے پاكستان كي فوج كي حمايت اور پاكستان كے اثر و رسوخ كو استعمال كرتے ہوئے طالبان كے ساتھ امن مذاكرات كيلئے اشرف غني كي كوششوں پر اس ملك كے معاشرے اور سماج ميں كوئي مثبت سوچ نہيں پائي جاتي۔ افغان صدر اشرف غني كي پاليسيوں پر نكتہ چيني كرنے والوں كا كہنا ہے كہ انہوں نے پاكستان كو كافي مراعات دي ہيں مثلا ايك اہم پاكستاني طالبان كمانڈر كو پاكستاني حكام كے حوالے كيا جانا اور دھشتگردوں كے بہانے افغان سرزمين پر پاكستان كے فوجيوں كي آزادانہ نقل و حركت ان مراعات ميں شامل ہيں ۔ دوسرے لفظوں ميں ان حلقوں كا كہنا ہے كہ افغان صدر اشرف غني اس ملك كے حاصل ہونے والےسياسي نتائج كو خطرے ميں ڈال كر ايك ايسے راستے پر چلنے كي كوشش ميں ہيں جس راستے پر سابق حكومت نے چلنے سے انكار كيا تھا اور شايد نئي حكومت كے صدر اپني اس پاليسي سے انتخابات كے موقع پر عوام سے كئے گئے اپنے وعدوں كو عملي جامہ پہنانے كي كوشش كر رہے ہيں ۔اس لئے كہ يہ حلقے اپني استدلال اور دلائل كو سچ ثابت كرنے كيلئے پاكستان كي جانب سے مذاكرات ميں عدم صداقت كي جانب اشارہ كرتے ہيں ۔ان كا كہنا ہے كہ افغان حكومت نے طالبان كو مذاكرات كي ميز پر لانے كيلئے 2011 ميں ٹاسك ديا تھا اور اس سلسلے ميں اس وقت كے افغان صدر حامد كرزئي كي قيادت ميں ايك اعلي رتبہ وفد نے پاكستان كے اس وقت كے وزير اعظم يوسف رضا گيلاني اور اس وقت كے چيف آف دي آرمي اسٹاف جنرل اشفاق پرويز كياني سے ملاقاتيں بھي كي تھيں اور پاكستان كے آرمي چيف نے طالبان كو مذاكرات كي ميز پر لانے كا وعدہ كيا تھا ۔ ہونے والي ملاقاتوں ميں طالبان كے ساتھ امن مذاكرات كيلئے ايك ٹائم فريم بھي ديا گيا ليكن كافي عرصے بعد اسے ايجنڈے سے نكال ديا گيا۔ اور افغان وفد كي واپسي كے كچھ ہي عرصے بعد اس ملك كے سابق صدر اور اعلي امن كونسل كے صدر برھان الدين رباني ايك خودكش حملے ميں جاں بحق ہو گئے جس نے امن كے عمل پر سواليہ نشان لگا ديا اور شايد اسي وجہ سے افغانستان كے سركاري اور غير سركاري شخصيات نے پاكستان پر اس كا الزام عائد كيا ۔ اسي بنا پر ہر چند كہ افغانستان كي سياسي شخصيات اور عوام، اپنے ملك ميں امن و امان كا خواہاں ہيں اور طالبان كے ساتھ صلح مذاكرات ميں ہي امن كے حصول كيلئے روشني كي كرن كو ديكھتے ہيں ليكن وہ پاكستان كے توسط سے طالبان كے ساتھ مذاكرات كرنے كے حوالے سے افغان صدر اشرف غني كي پاليسي كے مخالف ہيں ان كا كہنا ہے كہ ماضي كے شكست خوردہ تجربے كو دھرائے جانے كا مقصد پہلے سے تعين شدہ شكست كا مزہ چكھنے كے مترادف ہے جس كے كوئي خاص نتائج نہيں نكليں گے اور اسي لئے افغان صدر اشرف غني كي پاليسي كے خلاف ہيں ۔ اس قسم كي مخالفتوں سے يوں دكھائي ديتا ہے كہ اگر كابل اور اسلام آباد كے مابين انتہا پسندگروہوں پر كنٹرول حاصل كرنے كيلئے مناسب ہم آہنگي ہو اور سياسي مقاصد كے حامل ہوں تو حالات بدل سكتے ہيں اور سياسي حالات كيلئے فضا سازگار بن سكتي ہے اور اس طرح افغانستان كے مسائل و مشكلات كو طالبان كے ساتھ مذاكرات كے ذريعے حل كيا جا سكتا ہے اور اس صورت ميں پاكستان اور افغانستان حتي علاقے كے دوسرے ممالك كو بھي اس سے فائدہ ہو گا۔