الوقت کی رپورٹ کے مطابق سوچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمر پیوٹن کا کہنا تھا کہ ترکی نے روسی طیارہ گرا کر دہشت گردوں کا ساتھ دیا ہے جب کہ اس عمل سے روس کے ترکی کے ساتھ تعلقات پر خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس طیارے کو گرایا گیا وہ ترکی کی سرحد سے ایک کلومیٹر دور شام میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہاتھا جب کہ اسے شام کی سرحد کے 4 کلومیٹر اندر نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے ترک دفاعی اتاشی کو وزارت دفاع طلب کرکے روسی طیارے کو مار گرائے جانے کی وضاحت طلب کرلی ہے ۔
واضح رہے کہ آج ترکی کےایف 16 طیاروں نے روسی طیارے کو مارگرایا تھا تاہم اس حملے طیارے کے پائلٹوں کی ہلاکت سے متعلق مصدقہ اطلاعات سامنے نہیں آسکیں۔