الوقت- ترکی میں جس تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں اس میں اس ملک کی سیاسی صورت حال پر کوئی پیشگوئی کرنا آسان نہیں ہے لیکن اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ترکی کی حکمران جماعت اس وقت داخلی انتشار کے دہانے پر ہے دوسری طرف رجب طیب اپنی مرضی کا صدارتی نظام رائج کرنا چاہتے ہیں جس پر اختلاف میں بھی شدت آرہی ہے ادھرترکی کے عبوری وزیر اعظم داؤد اوغلو ایک بار پھر انصاف اور ترقی پارٹی کے سربراہ منتخب ہوگئے ہیں۔قابل غور نکتہ یہ ہے کہ انصاف اور ترقی پارٹی میں ان افراد کو مرکزی سطح پر لایا گیا ہے جو صدر رجب طیب اردوغان کے قریبی سمجھے جاتے ہیں جبکہ نئی مرکزی ٹیم میں سابق صدر عبداللہ گل کو کوئی بھی قریبی فرد موجود نہیں ہے جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انصاف اور ترقی پارٹی میں اوپری سطح پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔اس سے پہلے بھی رجب طیب اردوغان اور عبداللہ گل کے درمیان اختلاف کی خبریں سامنے آئی تھیں لیکن انصاف اور ترقی پارٹی کی مرکزی کانگریس کے فیصلےمیں اس طرح ظاہر کیا گیا تھا کہ مختلف مسائل پر اختلاف کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے ۔مثال کے طور پر ترکی کے وزیر اعظم کے ایک نائب بلنت آرینچ نے اپنے عہدے کو کسی اورکے لئے خالی کردیا حالانکہ انہیں انصاف اور ترقی پارٹی کے بانی اور مرکزی افراد میں سمجھا جاتا ہے اور وہ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے گذشتہ سالوں میں اس جماعت کی اقتصادی،سیاسی اور سماجی پالیسیاں بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔آرینچ نے مرکزی سطح پر پیدا ہونے والے اپنے اختلافات کو کبھی پوشیدہ نہیں رکھا ہے ۔انہوں نے اپنے ایک حالیہ پیغام میں کہا ہے کہ متوازی نظام کے خاتمے کے نام پر بعض لوگوں کا اخراج اور بعض کے ساتھ امتیازی رویہ نہ صرف انصاف اور ترقی پارٹی کے فائدے میں نہیں بلکہ اس سے اس پارٹی کو شدید نقصان پہنچے گا۔آرینچ کے مطابق یہ جنگ قانوں کے دائرے کے اندر ہونی چاہیے اور اس حوالے سے جو چیز مقابلے میں کامیابی کا باعث بنتی ہے انصاف اور قانون کی پاسداری ہے ۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انصاف اور ترقی پارٹی کے اندر سے بھی مخالف آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں اور اس وقت پارٹی کے اندر پہلے جیسے ہم آہنگی اور یکجہتی ناپید ہے ۔پارلیمنٹ میں چار سو نشستوں کے عدم حصول اور اپنے مطلوبہ ہدف میں ناکامی کی وجہ سے یہ بات قرین قیاس ہے کہ انصاف و ترقی پارٹی داخلی اختلافات کا شکار اور کئی جماعتوں میں بٹ سکتی ہے ۔دوسری طرف رجب طیب اردوغان پارلیمنٹ کی چارسو نشستوں کے حصول کےلئے اپنی تما تر کوششوں کو بروئے کار لا رہے ہیں۔انصاف و ترقی پارٹی کے مرکزی افراد میں رجب طیب اردوغان کے قریبی افراد کو لانے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اہم عہدوں پر اپنی گرفت مضبوط رکھنا چاہتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہی سب کچھ نہیں بلکہ رجب طیب پر تنقید کرنے والے اکثر لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کردنشین علاقوں میں جھڑپوں میں آنے والی شدت کا مقصد کردوں کی عوامی ڈیموکریٹک پارٹی کو پارلیمانی سیاست سے پیچھے دھکیلنا ہے کیونکہ اس جماعت کی وجہ سے انصاف و ترقی پارٹی کو انتخابات میں کم ووٹ ملے ہیں۔عوامی ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی رہنما صلاح الدین دمیرتاش نے انتخابات کے ابتدا ہی میں رجب طیب اردوغان کی اقتدار کی خواہش کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ رجب طیب کو اس بات کی اجازت نہیں دی جائیگی کہ وہ صدر بن کر اپنی مرضی کا صدارتی نظام ترکی پر مسلط کریں۔چند دن پہلے ترکی کے ایک ڈپٹی وزیر اعظم آکدوخان کا ایک اشتعال انگیز بیان جو ایک اسکینڈل کا باعث بنا میں کہا گیا ہے کہ دمیرتاش کا حالیہ بیان حکومت اور پی کے کے ،کے درمیان مذاکرات میں کشدگی کا باعث بنا ہے ۔اسطرح کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ رجب طیب اردوغان صدارتی نظام کے سائے میں اپنے اقتدار کو طول دینا چاہتے ہیں اور یہ وہی مسئلہ ہے جس نے ترکی کے آئندہ انتخابات کو مذید حساس بنا دیا ہے بہرحال ان انتخابات کا نتیجہ جوبھی ہو اس بات کا امکان ظاہر کیا جارہاہے کہ مستقبل میں ترکی کے سیکوریٹی بحران میں شدت آئے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انصاف اور ترقی پارٹی ملک میں امن و امان کے نفاز کو اہمیت دیتی ہے یا اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہوئے اپنی مرضی کا نظام نافذ کرنے کے لئے انتخانی سیاست میں مخالف جماعتوں کو کنارے لگاتی ہیں۔