الوقت کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین اور دیگر شیعہ جماعتوں نے سید امیر حیدر کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک منظم سازش کے تحت شیعہ مسلمانوں کی اہم شخصیات کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور حکومت خموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ کل پاکستان کے شورش زدہ شہرکراچی میں تکفیری دہشت گردوں نے معروف شیعہ قانون دان اور بار ایسوسی ایشن کے سابق سیکریٹری سید امیرحیدر شاہ کو حسن اسکوائر کے قریب اندھا دھند فائرنگ کر کے شھید کر دیا۔
پولیس کے مطابق حملہ آور موقع واردات سے فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ایس پی گلشن عابد قائم خانی کے مطابق واقعے کے پیچھے فرقہ وارانہ محرکات کو بھی خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا کیوں مقتول شیعہ برادری سے تعلق رکھتے تھے۔
امیر حیدر شاہ شیعہ طلبہ کی ملک گیر تنظیم امامیہ اسٹوڈینٹس آرگنائیزیشن (آئی ایس او پاکستان) کے ڈویژنل صدر بھی رہے ہیں، ان کا تعلق اندرون سندھ کے شہر ببرلو سے تھا اور وہ کافی عرصے سے کراچی میں مقیم تھے۔
قابل ذکر ہے کہ کراچی میں اب تک چالیس شیعہ قانون دانوں اور وکلا کو شہید کیا جاچکا ہے۔ شیعہ مسلمانوں کے قتل کے اکثر واقعات کی ذمہ داری لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ جیسے تکفیری دہشت گرد گروپ قبول کرتے رہے ہیں جو ان دنوں پاکستان میں اہلسنست والجماعت کے نام سے سرگرم ہیں۔