الوقت کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے صدر جب طیب اردوغان نے کل اسلام آباد میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی۔ اردوغان نےاس سے پہلے بطور وزیر اعظم دسمبر 2013 میں پاکستان کادورہ کیا تھا۔
ترکی نے جو داعش کا حامی تھا حالیہ پرتشدد واقعات کے بعد داعش اور کردستان ورکرز پارٹی کے خلاف کارروائی شروع کردی ۔
ترکی کی موجودہ حکومت داعش کے خلاف جنگ شروع کرکے دو مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ ترکی کے لئے داعش کی ضرورت اب باقی نہیں رہی ہے دوسری طرف ترکی کی موجودہ حکومت کی یہ خواہش ہے کہ ترکی کو علاقے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کے طور پر ظاہر کرے۔ترکی امریکہ سے ملکر مستقبل میں علاقے میں آنے والی تبدیلیوں سے فائدہ اٹھا کر علاقے میں اپنے کردار کو موثر بنانے کا خواہان ہے