الوقت- ایک ایسے وقت حب ایران کے وزیر خارجہ نے علاقے کے بعض عرب ممالک کا دورہ کیا ہے بعض عناصر نے ان دورہ جات کو ایران کی شکست خوردرہ پالیسی سے تعبیر کرتے ہوئے یہاں تک کہا ہے کہ ایران ان عرب ملکوں کی ناراضگی دور کرنے کے لئے ان کے موقف میں ہاں میں ہاں ملانے کے لئے اپنے بعض اصولی مواقف سے ہٹنے پر تیار ہوگیا ہے اور اسکے اعلان کے لئے جواد ظریف نے قطر اور کویت وغیرہ کا دورہ کیا ہے ۔ مغربی زرائح ابلاع کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ وہ ایران کے اسلامی انقلاب اور اسکی اسلامی حکومت کے موقف کو توڑ مروڑ بلکہ برعکس بنا کر پیش کرے مثال کے طور پر اگر ایران خطے کے ممالک سے اچھے تعلقات میں قروغ کی کوشش کرتا ہے تو ایران و فوبیا اور شیعہ فوبیا کے پروپگینڈے شروع کرا دئے جاتے ہیں۔ایران خطے کے ممالک میں کشیدگی کے خاتمے کی کوشش کرتا ہے تو اسے کوئی اور رنگ دے دیا جاتا ہو اب بھی ایران کے وزیر خارجہ نے تاریخی ایٹمی معاہدے کے بعد علاقے کے بعض عرب ممالک کا دورہ کیا تو اسے بھی اس طرح بنا کر پیش کیا جارہا ہے جیسے ایران ماضی کے حوالے سے اپنی کوتاہیوں کی معافی کے لئے اپنے سفارتی وسائل کو استعمال کررہا ہے حالانکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ ایٹمی مذاکرات میں مصروفیت کی وجہ سے ایران علاقے میں اپنی سفارتی سرگرمیوں کو اسطرح جاری نہیں رکھ سکا جتنی ضرورت تھی لہذا اب اس نے اس چینل کو دوبارہ فعال کردیا ہے تو انقلاب اور اسلام دشمن طاقتیں ایک بار پھر میڈیا کے ہتھیار کے زریعے میدان عمل میں آگئی ہیں تاہم ماضی کی دیگر جنگوں کی طرح ایران کو اس جنگ میں بھی کامیابی نصیب ہوگي۔ایران کے وزیر خارجہ کے حالیہ دورے سے جہاں دہشتگردی بلکہ تکفیری دہشتگردی کے خلاف جو مواقف سامنے آرہے ہیں اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ایران نے ان عرب مملک کو بھی اپنا ہمنوا بنا لیا ہے اسی طرح یمن، شام اور عراق کے حوالے سے ان ممالک کے مواقف میں جو تبدیلیاں آئی ہیں وہ خود اس دورے کی کامیابی کی واضح علامت ہیں لہذا ایران کے وزیر خارجہ کے حالیہ دورے کو اس تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف منگل کو عراق کا دورہ مکمل کرکے تہران پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے بغداد میں باہمی دلچسپی کے مسائل بالخصوص تکفیری دہشتگرد گروہوں سے مقابلے کے سلسلے میں عراقی حکام سے گفتگو کی ہے۔ وزیر خارجہ محمد جواد ظریف پیر کے دن علاقے کے بعض ملکوں کے دورے کے آخری مرحلے میں عراق پہنچے تھے۔ انہوں نے اس سے قبل کویت اور قطر کا دورہ کیا تھا۔ وزیر خارجہ نے بغداد میں عراقی وزیر اعظم، صدر جمہوریہ ، پارلمینٹ کے اسپیکر اور وزیر خارجہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں میں محمد جواد ظریف نے بغداد کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران دہشتگردی کے مقابل عراق کی مدد کرتا رہے گا۔ محمد جواد ظریف نے ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے ایٹمی معاہدے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایران نے ہمیشہ سے اپنے ہمسایہ اور علاقائي ملکوں بالخصوص عراق کےساتھ تعلقات میں توسیع لانے پر زور دیا ہے۔ عراق کے صدر، وزیر اعظم اور اسپیکر نے محمد جواد ظریف سے ملاقات میں دہشتگردوں کے مقابل عراق کے لئے ایران کی حمایت اور مدد پر شکریہ ادا کیا۔ ان عراقی حکام نے کہا کہ ایران وہ پہلا ملک ہے جس نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کےلئے عراق کی سب سے زیادہ مدد کی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے عراق کے مقدس شہر نجف اشرف میں مراجع تقلید بالخصوص آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی سے ملاقات کی۔ انہوں نے مراجع تقلید سے عراق اور دنیا کے مسائل کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے پیر کے دن کویت اور قطر کے اعلی حکام سے ملاقاتوں میں علاقے کے ملکوں کے ساتھ تعلقات میں استحکام لانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ علاقے کے ملکوں کی سیکورٹی ایران کی سیکورٹی ہے اور بدامنی اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کےلئے سب ملکوں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ سے اچھی ہمسائيگي کے اصولوں، علاقائي ملکوں کے اقتدار اعلی اور ارضی سالمیت کا احترام کیا ہے اور علاقے میں سیاسی استحکام کی برقراری ایرانی سفارتکاری کا نصب العین رہا ہے۔ عراقی حکام کے بقول عراقی فوج اور عوامی فورسز کو ایرانی ماہرین کے مشوروں کے نتیجے میں عراق کے دارالحکومت بغداد اور شمالی شہراربیل پر داعش کے قبضے کی سازشیں ناکام ہوئیں اور عراقی فورسز نے دہشتگردوں کو مختلف علاقوں میں کراری شکستوں سے دوچار کیا۔ اسی وجہ سے اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام کا کہنا ہے کہ علاقے کے حالات کا تقاضہ ہے کہ ایران اور ہمسایہ ممالک بالخصوص عراق کے درمیان سیاسی، سیکورٹی اور دفاعی نیز اقتصادی اعتبار سے مستحکم تعلقات ہونے چاہیں۔ البتہ ان تعلقات کے ساتھ ساتھ دینی اور تہذیبی مشترکات کو بھی ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ واضح رہے علاقائي ملکوں کا اتحاد اور تعاون ہی ان کی پیشرفت و استحکام کی ضمانت فراہم کرسکتا ہے۔ ہمسایہ مملک سے بہتریں تعلقات اور اسرائیل کے خلاف متحدہ محازایران کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے اور ایران کے وزیر خارجہ کے حالیہ دورے کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔