الوقت- افغانستان کے سابق وزیر تعلیم نے کہا ہے کہ افغانستان کے بعض حکام نے کابل اسلام آباد سیکورٹی معاہدے پر دستخط کرنے کے لئے کئی ملین ڈالر کی رشوت لی ہے-
تسنیم خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے سابق وزیر تعلیم فاروق وردک نے نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو میں دعوی کیا ہے کہ افغانستان کی متحدہ قومی حکومت کے تین اعلی عہدیداروں نے پاکستان کے ساتھ سیکورٹی معاہدے پر دستخط کرنے کے عوض بالترتیب چالیس، بیس اور دس ملین ڈالر وصول کئے ہیں- فاروق وردک نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ وہ جلد ہی تفصیلات منظر عام پر لائیں گے- یہ خبر ایسی حالت میں سامنے آئی ہے کہ جب افغان حکام نے کابل اسلام آباد سیکورٹی معاہدے پر دستخط کئے جانے کی تردید کی ہے اس کے باوجود اس ملک کے بعض ذرائع ابلاغ نے تصاویر شائع کرکے دعوی کیا ہے کہ دونوں ممالک نے اس معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں- واضح رہے کہ کابل اسلام آباد سیکورٹی معاہدے پر دستخط کئے جانے کی خبر سامنے آنے کے بعد افغانستان کی پارلیمنٹ اور سینیٹ کے اراکین، سابق صدر حامد کرزئی، قومی سلامتی کے سابق سربراہوں امر اللہ صالح اور اسد اللہ خالد نے اس سیکورٹی معاہدے پر دستخط کئے جانے کے خلاف شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اسے قومی مفادات کے خلاف قرار دیا تھا- دوسری جانب افغان صدر محمد اشرف غنی نے صوبۂ قندھار کے دورے کے موقع پر اس سیکورٹی معاہدے پر دستخط کی خبر کو افواہ سے تعبیر کیا اور کہا کہ ابھی تک اس معاہدے پر دستخط نہیں کئے گئے ہیں