الوقت-طالبان كے ايك اعلي سطحي وفد نے طيب آغا كي قيادت مين ايران كا دورہ كيا ہے اس وفد ميں قاري دين محمد حنيف،شير محمد عباس اورعبداالسلام حنفي شامل تھے يہ تينوں حضرات طالبان كے سياسي دفتر كے اعلي عہديدار ہيں گذشتہ منگل كو ہونے والے اس دورے ميں طالبان كے وفد نے ايران كے اعلي حكام سے ملاقاتيں كيں۔كہا جارہا ہے كہ ان ملاقاتوں ميں علاقائي،عالمي مسائل كے علاوہ افغانستان مين داعش كي تشكيل جيسے موضوعات زير بحث آئے ۔افغان امن كونسل كي عالمي امور كي كميٹي كے ركن محمد اسماعيل قاسم يار نے اس دورے اور ملاقاتوں كي تائيد كي ہے ۔طالبان ترجمان زبيع اللہ مجاہد بھي اس دورے كي تائيد كرچكے ہيں اور انہوں نے ميڈيا كو جاري كردہ بيان ميں اس كو معمول كا دورہ قرارديا ہے اور ان كا كہنا تھا طالبان كي طرف سے اسطرح كے وفود مختلف ملكوں ميں جاتے رہتے ہيں۔طالبان كے وفود اس سے پہلے بھي ايران كا دورہ كرچكے ہيں۔طالبان وفد كا دورہ ايران ايسے عالم ميں پيش آيا ہے كہ افغان طالبان اور حكومت كے درميان قطر مين ہونے والےمذاكرات كي خبريں زبان ذد خاص و عام ہيں۔البتہ طالبان كيطرف سے براہ راست مذاكرات كي ترديد كي جارہي ہے ۔
افغانستان ميں داعش گروہ كي تشكيل كي خبريں آج كل بہت زيادہ گرم ہيں۔ايران كي افغانستان كے ساتھ طويل سرحديں ہيں دوسري طرف عراق ميں بھي داعش كي موجودگي ايران كے لئے قابل تشويش ہے اسي لئے ايران كي كوشش ہے كہ اس بات كا جائزہ لے كہ داعش كي افغانستان ميں كيا پوزيشن ہے اور طالبان اور داعش كے تعلقات كي نوعيت كيا ہے اور كيا داعش اور طالبان كي افغانستان ميں ہونے والي جھڑپوں ميں كوئي حقيقت بھي ہے يا نہيں۔البتہ اس بات كا تاثر بھي مل رہا ہے كہ طالبان بھي افغانستان ميں داعش كي موجودگي سے خوفزدہ ہيں كيونكہ انہيں اس بات كا انديشہ ہے كہ وہ انكي جگہ لے سكتے ہيں۔۔
افغان طالبان كے دورہ ايران ميں علاقے بالخصوص افغانستان كے مسئلے ميں چين كے مثبت كردار پر بھي گفتگو ہوئي۔طالبان قيادت نے چيني حكام سے ہونے والي اپني ملاقاتوں سے بھي ايراني حكام كو آگاہ كيا۔اس دورے ميں شمالي افغانستان ميں ہونے والي حاليہ جھڑپوں كا زكر بھي ہوا كيونكہ اس پر علاقائي ممالك بالخصوص روس كو شديد تشويش لاحق ہے اور اسي وجہ سے روس كے وزير داخلہ نے كابل كو دورہ كيا ہے ۔حقيقت يہ ہے كہ اس وقت طالبان اور افغان امن كونسل ميں مختلف مواقف پر ہم آہنگي پائي جاتي ہے اور اس حوالے سے صدر اشرف غني كي كوششوں كو فراموش نہيں كيا جاسكتا۔اب ديكھنا يہ ہے كا ان مذاكرات ميں شريك مختلف گروہ افغانستان ميں امن كے حوالے سے كتنے سنجيدہ اور سچے ہيں۔
امريكہ،مغرب اور سعودي عرب داعش كے زريعے ايران كے لئے مشكلات كھڑي كرنا چاہتا ہے اور اس ہدف كے حصول كے لئۓ اب اس نے طالبان كي بجائے طالبان كي كھل كر مدد اور حمايت كرنا شروع كرركھي ہے۔يوں بھي امريكہ كو افغانستان ميں رہنے كے لئے داعش كي سرگرميوں كي ضرورت ہے دوسري طرف پاكستان اور امريكہ طالبان كو فوجي اور جنگي مرحلے سے نكال كر سياسي شعبے ميں فعال كرنا چاہتا ہے۔طالبان پاكستان كے زريعے اس رول كو ادا كرنے كے مخالف ہيں طالبان امن مسئلے كو پاكستان كے واسطے سے حل كرنے كے خواہشمند نہيں ہيں۔افغانستان ميں امن كے قيام كے لئے مختلف ممالك ميں كانفرنسوں اور اجلاسوں كا انعقاد ہوا ہے اور طالبان اس حوالے سے ايران كابھي موقف جاننے كے خواہاں ہيں اور انكے موجودہ دورے كا ايك ہدف يہ بھي تھا تاہم اس سے ہرگز يہ نہيں سمجھا جاسكتا كہ ايران طالبان كي حمايت كرتا ہے يا اس نے طالبان كے حوالے سے اپني پاليسي كو تبديل كرديا ہے ۔طالبان گروہ اس دورے كے زريعے اپنے حقيقي موقف كو ايران تك پہنچانا چاہتا ہے كيونكہ عام طور پر يہ موقف دوسروں كے زريعے ايران تك پہنچا ہے ۔امريكہ اور مغربي طاقتوں نے اس سے پہلے طالبان كے زريعے اپنے اھداف حاصل كرنے كي كوشش كي اور اب يہي كام داعش سے ليا جارہا ہے۔