الوقت كي رپورٹ كے مطابق پاكستان كےدفتر خارجہ ميں پريس بريفنگ كے دوران ترجمان قاضي خليل اللہ كا كہنا تھا كہ 'پاكستان كو اسامہ بن لادن كي ايبٹ آباد ميں موجودگي كا علم نہيں تھا۔
واضح رہے كہ لندن ريويو آف بكس ميں گزشتہ اتوار كو شائع ہونے والي ايك رپورٹ ميں امريكي صحافي سيمور ہرش نے انكشاف كيا تھا كہ امريكا اسامہ بن لادن تك پاكستان كي مدد سے پہنچا تھا، ليكن اس نے اس كارروائي كو اس انداز سے ظاہر كيا كہ پاكستان كو مجرم بناديا۔
انہوں نے بتايا كہ وہائٹ ہاؤس نے امريكي مفاد كو پيش نظر ركھتے ہوئے يہ مشن تيار كيا اور پاكستاني فوج اور انٹرسروسز انٹيلي جنس (آئي ايس آئي) كے سينئير جنرلوں كو اس چھاپہ مار كارروائي كے بارے ميں قبل از وقت كچھ نہيں بتايا تھا۔ تاہم مريكي حكام نے اسامہ بن لادن كي ہلاكت كے حوالے سے ميڈيا كي رپورٹوں كو مسترد كرتے ہوئے انہيں بے بنياد قرار ديا۔