الوقت - ایران کے اسلامی انقلاب کے اہم رہنما اور امام خمینی و رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے ساتھی اور اسلامی انقلاب کے ممتاز مجاہد آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی کا 82 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا ہے۔
آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی کو اتوار کی شام دل کا دورہ پڑنے کے بعد تہران میں ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا لیکن اسپتال میں داخل ہونے کے کچھ دیر بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ انتقال کے فورا بعد ایران کے صدر ڈاكٹر حسن روحانی ہسپتال پہنچے۔
صدر حسن روحانی نے اسپتال میں آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور انہیں تعزیت پیش کی۔ اس کے بعد نائب صدر اسحاق جہانگیری، مجید انصاری اور حجت الاسلام علی یونسی بھی اسپتال پہنچ گئے۔ایران کے ایٹامک انرجی آرگنائیزیشن کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر صالحی بھی شہدائے تجریش اسپتال پہنچ گئے ہیں۔
آیت اللہ ہاشمیرفسنجانیکے انتقال کی خبر عام ہوتے ہی لوگ ہسپتال کے سامنے جمع ہو گئے اور کچھ ہی دیر میں پورا علاقہ لوگوں سے بھر گیا۔
آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی کی لاش کو ان کے گھر پہنچا دیا گیا ہے اور اعلان کے مطابق منگل کو ان کی تدفین ہوگی۔ آیت اللہ ہاشمیرفسنجانی25 اگست 1934 کو رفسنجان کے بہرمان گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ چودہ سال کے عمر میں قم کے دینی مرکز میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے قم چلے گئے جہاں انہوں نے آیت اللہ العظمی بروجردی، آیت اللہ العظم امام خمینی رح اور آیت اللہ سید محقق میر داماد، آیت محمد رضا گلپائیگانی اور آیت اللہ محمد حسین طباطبائی جیسے جید علمائے کرام کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا۔ انہیں سات بار جیل بھی جانا پڑا۔ وہ مجموعی طور پر ساڑھے چار سال تک جیل میں رہے لیکن ان کے عزم صمیم میں کوئی خلل واقع نہیں ہوا۔
ایران کے سینئیر سیاستدان آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی اسلامی جمہوریہ ایران کے چوتھے صدر بنے۔ وہ 1989 سے 1997 تک ایران کے صدر رہے۔
آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی 2007 سے 2011 تک ماہرین کی کونسل کے رکن رہے جبکہ وہ 1980 سے 1989 تک ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر بھی رہے۔
1989 میں وہ مصلحت نظام کونسل کے سربراہ بنے۔
انہوں نے ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اس کے بعد عراق کے ڈکٹیٹر صدام کی جانب سے مسلط کردہ 8 سالہ جنگ کے دوران اہم کردار ادا کیا۔
آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی کا شمار اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے قریبی انقلابی رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ ان کے انتقال کی خبر سے پورے ایران میں سوگ کا ماحول ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے اپنے ایک تعزیتی پیغام میں آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی کے انتقال پر تعزیت پیش کی ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اپنے پیغام میں فرمایا کہ نہایت افسوس کے عالم میں حجۃ الاسلام والمسلمین حاج شیخ اکبر ہاشمی رفسنجانی کی رحلت کی خبر میں نے سنی جو میرے دیرینہ رفیق اور کئی سالوں پر محیط انقلاب اسلامی کے پورے دور میں میرے قریبی شریک کار تھے۔
ہاشمی کے چلے جانے کے بعد میں اب کسی ایسی شخصیت کو نہیں پہچانتا جو اس تاریخ ساز دور کے نشیب و فراز میں اس قدر دراز مدت پر محیط تجربوں کا مالک ہو۔
میں تہہ دل سے ان مرحوم کے لئے غفران اور رحمت الٰہی کا طلبگار ہوں اور انکی اہلیہ محترمہ، انکی اولاد،انکے بھائیوں اور دیگر پسماندگان کو تعزیت پیش کرتا ہوں-
میرے لئے 59 سال تک ایک ساتھ کام کرنے والے اپنے اس ساتھی سے جدائی مشکل ہے۔ ان دسیوں سال کے دوران ہم نے نہ جانے کتنی مشکلات برداشت کی اور نہ جانے کتنے مواقع پر ہماری مشترکہ فکر اور نظریات نے ہمیں ایک راہ پر آگے بڑھایا اور خطرات کو قبول کرنے اور کوشش کرنے کا حوصلہ فراہم کیا ۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اس طویل مدت میں نظریات اور خیالات میں اختلافات ہماری اس دوستی کے رشتے کو کمزور نہیں کر پائے جس کا آغاز مقدس شہر کربلا سے ہوا تھا اور نہ ہی ان حالیہ برسوں میں نظریاتی اختلافات سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کرنے والے میرے تئیں ان کی محبت میں کمی کر سکے۔
وہ شاہی حکومت کے خلاف جدوجہد کی پہلی نسل کے بے نظیر آئیڈیل مثالی تھے اور اس خطرناک اور تکلیف دہ راہ میں بہت رنج آلام برداشت کئے تھے۔ برسوں تک انھوں نے ساواک کی جانب سے دی جانے والی اذیتیں برداشت کی جیل گئے لیکن ڈٹے رہے اور پھر دفاع مقدس کے دوران عظیم ذمہ داریاں ادا کیں، پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے اور ماہرین کی کونسل وغیرہ کے سربراہ رہے اور یہ سب نشیب و فراز سے پر اس عظیم مجاہد کی زندگی کے سنہری باب ہیں۔
ہاشمی رفسنجانی کے انتقال کے بعد اب میں کسی ایسی شخصیت کو نہیں جانتا جس کے ساتھ نشیب و فراز سے پر اور تاریخی مرحلے میں میرا مشترکہ و طویل مدتی تجربہ ہو۔ اس وقت یہ قدیمی مجاہد مختلف قسم کی سرگرمیوں سے پر اپنے اعمال نامے کے ساتھ الہی عدالت میں ہے اور اسلامی جمہوریہ کے نظام کے ہم تمام حکام کا مستقبل یہی ہے۔
میں دل کی گہرائیوں سے ان کے لئے خدا کے فضل و کرم اور مغفرت کی دعا کرتا ہوں اور ان کی اہلیہ، ان اولادوں، بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں۔
خدا ہماری اور ان کی مغفرت فرمائے ۔
سید علی خامنہ ای۔
19 دی 1395 ہجری شمسی
حکومت ایران نے آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی کے انتقال پر ملک بھر میں تین دن کے عام سوگ کا اعلان کیا ہے۔