الوقت -افغانستان نے کابل سے متعلق دوغلی پالیسیوں کے جاری رہنے کے بارے میں پاکستان کو انتباہ دیا ہے -اطلاعات کے مطابق افغانستان کے چیف ایگزیکٹو کے نائب ترجمان جاوید فیصل نے کابل سے متعلق دوغلی پالیسیوں کے جاری رہنے کے بارے میں پاکستان کو انتباہ دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر پاکستان نے افغانستان کے بارے میں اپنی متضاد پالیسیاں جاری رکھیں تو پھر کابل اسلام آباد کے بارے میں مختلف اور سخت موقف اختیار کرے گا- جاوید فیصل نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ حکومت پاکستان نے افغانستان میں قومی اتحاد کی حکومت کی تشکیل کے آغاز سے اب تک کابل کے ساتھ صداقت کے ساتھ عمل نہیں کیا ہے، کہا کہ ان کا ملک پاکستان کو کنٹرول کرنے کے لئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرے گا بلکہ اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک لے جائے گا- طالبان کے سربراہ ملا عمر کی موت کی تصدیق اور کابل اور افغانستان کے دیگر شہروں میں حملوں میں اضافہ ہونے کے بعد حکومت افغانستان نے اسلام آباد پر افغان امن مذاکرات کے عمل میں صادقانہ تعاون نہ کرنے کا الزام لگایا ہے- بتایا جاتا ہے کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بھی ان حملوں میں شدت آنے کے بعد کہا ہے کہ پاکستان میں بم دھماکوں کی تربیت دینے کے کیمپ اب بھی فعال ہیں اور اس ملک سے افغانستان کو جنگ کے پیغام ارسال کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے
پاکستان کی جانب سے افغانستان کے سرحدی علاقوں پر بمباری اور ان حملوں میں آٹھ افغاں پولیس اھلکاروں کے جاں بحق ہونے کےبعد افغاں وزارت خارجہ نے بھی کابل میں پاکستان کے سفیرسید ابرار حسین کو طلب کرکے احتجاج کیا ہے۔ افغانستان کے نائب وزیر خارجہ عتیق اللہ عاطف مل نے پاکستان کے اس اقدام پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ کنڑ میں ایک چیک پوسٹ پر پاکستان کی بمباری میں آٹھ افغان پولیس اھلکار مارے گئے ہیں جبکہ بازار میں لگنے والی آگ سے اس صوبے کے لوگوں کو کافی نقصان پہنچاہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ افغانستان کے سرحدی علاقوں پر پاکستان کی بمباری کی وجہ سے افغان وزارت خارجہ میں کابل میں پاکستان کے سفیر کو طلب کیاجارہا ہے لیکن بڑے افسوس کا مقام ہے کہ اس کے باوجود بھی پاکستان کے رویے میں کسی طرح کی تبدیلی دیکھنے کو نہيں ملی ہے۔ عاطف مل نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان کی فوج عالمی تعلقات اور اچھی ہمسائگي کے اصول پامال کرتی رہے گي تو دونوں ملکوں کے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ سرحد پر حملوں کے جاری رہنے سے کابل اور اسلام آباد کے تعلقات پر منفی اثرات پڑسکتے ہیں۔ کابل حکومت پاکستان کو ان حملوں کا ذمہ دار قراردیتی ہے۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل اور دیگر علاقوں میں حالیہ دہشتگردانہ واقعات اور کابل حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے معطل کئے جانے پر کابل حکومت نے شدید تنقید کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان میں پاکستان کے خلاف نفرت کے جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستانی حکومت کی پالیسیوں پر افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ کی جانب سے شدید تنقید کے بعد بعض حلقوں نے حکومت پاکستان کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ان حالات میں اس بات میں کوئي شک نہیں ہے کہ بعض عسکریت پسند اور دہشت گرد گروہ جو افغانستان اور پاکستان کے تعلقات خراب کرنے کے درپے ہیں وہ ان ملکوں کی مشترکہ سرحدوں پر مزید تشدد آمیز اقدامات کرکے ان کےتعلقات کومزید خراب کرسکتے ہیں۔ ادھر افغانستان کے صدر اشراف غنی نے کہا تھا کہ افغانستان میں قیام امن کا راستہ پاکستان سے گذرتا ہے، انہوں نے اسی وجہ سے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش کی تھی اور اسلام آباد کے ساتھ سکیورٹی معاہدے پر بھی دستخط کئے تھے۔ افغانستان اور پاکستان میں سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد نے ہمیشہ افغانستان کے تعلق سے دوہری پالیسیاں اپنائي ہیں اور یہ پالیسیاں بحران پیدا کرکے اپنے اھداف حاصل کرنے سے عبارت ہیں۔ اس نظریئے کے مطابق طالبان کی حمایت کرنا اسلام آباد کی ایک اسٹراٹیجی ہے جو اس نے حکومت کابل پر دباؤ ڈالنے کے لئے اپنا رکھی ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ افغانستان اور پاکستان کو اپنی سرحدوں کوکنٹرول کرکے اس بات کی اجازت نہیں دینا چاہیے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات خراب کرنے والے حلقے ان کے تعلقات میں کشیدگي پھیلا کر کابل اور اسلام آباد کےدرمیان کشیدگي اور اختلافات ختم کرنے کے لئے سیاسی راہ حل کی کوششوں کو سبوتاژ کرسکیں۔ جنرل راحیل شریف کی قیادت میں پاکستانی فوج پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ چاہتی ہے۔ آپریشن ضرب عضب کے ذریعے افغانستان اور طالبان کے حوالے سے بھی پاک فوج نے نئی حکمت عملی پر عمل شروع کیا تھا۔ اسی لئے طالبان قیادت اب اشرف غنی کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات پر راضی ہوئی تھی۔ اب ان کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی منظم کوشش کی گئی ہے۔ تاہم پاکستان کے لئے بدستور یہ ضروری ہے کہ وہ افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر واپس لائے اور افغانستان میں حکومت اور باغی گروہ کے درمیان مفاہمت کا راستہ ہموار کرنے کی کوشش کرے۔ اسی طرح پاکستان میں انتہا پسند عناصر کی حوصلہ شکنی اور سرکوبی کا راستہ بھی ہموار ہو گا۔
اسی طرح صدر اشرف غنی کو بھی اپنی صفوں میں انتشار پسند عناصر کو غیر مؤثر کرنے کی ضرورت ہے۔ طالبان سے مذاکرات اور امن کا راستہ اسلام آباد کے ذریعے ہی طے کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر افغان حکومت نے طالبان سے مفاہمت کی پالیسی کو پس پشت ڈالا اور یہ قیاس کرنے کی کوشش کی کہ ملا عمر کے انتقال کے بعد طالبان ازخود منتشر اور کمزور ہو جائیں گے تو اس کے خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ داعش برصغیر میں پاﺅں جمانے اور اپنے ہمدرد انتہا پسندوں کو منظم کرنے کے لئے دانت تیز کئے ہوئے ہے۔
