الوقت کی رپورٹ کے مطابق افغان نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی کے ترجمان حسیب صدیقی کا کہنا ہے کہ افغان انتظامیہ گزشتہ جمعہ کو ہونے والے دھماکوں میں پاکستانی فوج کی مداخلت کی تصدیق کرتی ہے۔
انہوں نے کہا ان حملوں کے پیچھے پاکستانی فوج کے خصوصی حلقوں کا ہاتھ ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے ذریعے کام کررہا ہے۔
پاکستان کی جانب سے فوری طور پر اس بیان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم اسلام آباد ماضی میں افغانستان کے ایسے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔
افغان انٹیلی جنس ایجنسی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان کے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے اپنے الگ الگ بیانات میں پاکستان پر طالبان کی خفیہ حمایت کا الزام عائد کیا تھا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے افغان دارلحکومت میں تین دھماکوں میں 50 سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔
