الوقت كي رپورٹ كے مطابق اسلام آباد ميں اے پي سي كے اجلاس اور اسي طرح شب قدر ميں فرنٹيئر كانسٹيبلري كي پاسنگ آؤٹ پريڈ سے خطاب كے دوران وفاقي وزيرداخلہ كا كہنا تھا كہ آپ صرف پاكستاني نہيں بلكہ مسلمان بھي ہيں، آپ كا مقابلہ ان لوگوں سے ہے جو اسلام كا نام استعمال كررہے ہيں، اسلام امن اور سلامتي كا مذہب ہے ليكن كچھ لوگ اسلام كا نام تشدد كے حوالے سے استعمال كررہے ہيں، اسلام كا نام لے كر بچوں، عورتوں، بزرگوں پر حملہ كرنے والے اسلام سے ناواقف ہيں۔ اسلام ميں تو غير مسلموں كي عبادت گاہوں پر حملے كي بھي اجازت نہيں ليكن يہ كيسے لوگ ہيں جومساجد پر حملے كرتے ہيں۔چوہدري نثار نے كہا كہ جب ان كي حكومت قائم ہوئي تو ملك ميں ہر جانب دھماكے ہورہے تھے، فوج كي كوششوں سے ملك ميں قيام امن ميں بہتري آئي ہے تاہم اب تك دشمن ختم نہيں ہوئے۔