الوقت كي رپورٹ كے مطابق وزيراعلٰي بلوچستان ڈاكٹر عبدالمالك بلوچ نے پير كے روز كوئٹہ ميں رونما ہونے والے ناخوشگوار واقعات كے فوري بعد امن و امان سے متعلق اعلٰي سطحي اجلاس طلب كيا۔ اجلاس سے خطاب كرتے ہوئے وزيراعلٰي نے كوئٹہ شہر كے مختلف واقعات ميں جاني نقصان پر افسوس كا اظہار كرتے ہوئے كہا كہ گذشتہ ايك سال كے دوران امن و امان كي صورتحال ميں نماياں بہتري آئي، جو حكومتي اقدامات، پوليس و ديگر قانون نافذ كرنے والے اداروں كي محنت، لگن اور قربانيوں كا نتيجہ ہے ليكن كوئٹہ كے حاليہ واقعات اس بات كي غمازي كرتے ہيں كہ دہشت گرد، امن دشمن و سازشي عناصر دوبارہ شہر ميں خوف و دہشت كي فضاء قائم كركے عوام كو يرغمال بنانے كي منصوبہ سازي پر عمل پيرا ہوكر اپنے مذموم مقاصد حاصل كرنا چاہتے ہيں۔ امن و امان كي صورتحال كو كسي بھي گروہ كي جانب سے سبوتاژ كرنے كي كسي بھي كوشش كو نہ صرف ناكام بنايا جائيگا، بلكہ امن كے دشمنوں كے ساتھ آہني ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
ڈاكٹر عبدالمالك بلوچ نے سختي سے ہدايت كي كہ شہر ميں خون خرابہ اور دہشت كي فضاء پھيلانے والے عناصر كو ہر صورت ميں انصاف كے كٹہرے ميں لايا جائے۔ گزشتہ دو روز ميں ہونے والے ناخوشگوار واقعات كے اصل ملزمان كو گرفتار كركے حكومتي رٹ يقيني بنائي جائے۔ امن پر كسي قسم كا سمجھوتہ نہيں كيا جائيگا۔
كوئٹہ ميں پير كے روز تكفيري دھشتگردوں كي كوئٹہ كے مختلف علاقوں ميں كي جانے والي اندھا دھند فائرنگ كے نتيجے ميں تين شيعہ مسلمانوں كي شھادت كے بعد كوئٹہ كي فضا سوگوار ہے اور دفعہ 144كے نفاذ كے ساتھ ساتھ سكيورٹي كے سخت انتظامات كئے گئے ہيں۔