الوقت كي رپورٹ كے مطابق مجلس وحدت مسلمين اور بلوچستان شيعہ كانفرنس نے واقعہ كي مذمت كرتے ہوئے3 روزہ عام سوگ منانے اور آج منگل كو شٹرڈاون ہڑتال كي كال دي تھي جس كے بعد كوئٹہ شہر كي تمام اہم ماركيٹيں اور بازار بند ہوگئے جبكہ شہر كي سٹركوں پر ٹريفك معمول سے كم ہوگيا۔
كوئٹہ كے عوام نے واقعے پر احتجاج كرتے ہوئے تينوں لاشوں كے ساتھ كوئٹہ ميں آئي جي بلوچستان كے دفتر اور كوئٹہ پريس كلب كے باہر احتجاج كيا۔
پوليس كے مطابق فائرنگ كا پہلا واقعہ كوئٹہ كے علاقے قندھاري بازار ميں پيش آيا جہاں تكفيري دھشتگردوں نےچائے كي دكان پر فائرنگ كي جس كے نتيجے ميں انور علي ہزارہ نامي شخص شھيد ہوگيا جبكہ ايك راہ گير محمد اعظم يوسفزئي زخمي ہوگيا۔ہسپتال ذرائع كے مطابق مقتول كو 8 گولياں لگي ہيں۔
دوسرا واقعہ سليم ميڈيكل كے باہر پيش آيا جہاں تكفيري دھشتگردوں نے ڈاكٹر كا انتظار كرنے والے افراد پر فائرنگ كردي۔گولياں لگنے سے دو افراد عبدالحكيم ہزارہ اور محمد ہاشم ہزارہ موقع پر ہي شھيد جبكہ 2 خواتين سميت چار افراد شديد زخمي ہوگئے۔
واقعے كے بعد پوليس اور ايف سي كي بھاري نفري نے علاقے كو گھيرے ميں لے ليا اور لاشوں اور زخميوں كو كمبائن ملٹري ہسپتال منتقل كيا گيا۔تيسرا واقعہ كوئٹہ ميں جناح روڈ پر پيش آيا، جہاں نامعلوم موٹر سائيكل سواروں نے فائرنگ كي جس سےمحمد عباس قريشي نامي شخص ہلاك ہوگيا۔صوبائي حكومت نے واقعے كے بعد موٹرسائيكل كي ڈبل سواري پر پابندي عائد كردي گئي ہے۔
واضح رہے كہ اس سے قبل بھي كوئٹہ ميں تكفيري دھشتگردوں كے حملوں ميں ہزاروں شيعہ مسلمان شھيد اور زخمي ہوئے اور اسي ٹارگٹ كلنگ كي وجہ سے نواب اسلم رئيساني كي صوبائي حكومت ختم ہوئي۔ كہا جاتا ہے كہ يمن پر سعودي عرب كے حملے ، امام كعبہ كي پاكستان آمد اور تكفيري گروہوں سے ان كي ملاقاتوں كے بعد پاكستان ميں شيعہ مسلمانوں كي ٹارگٹ كلنگ كے واقعات ميں تيزي سے اضافہ ہوا ہے۔