الوقت - دہشت گرد گروہ داعش نے 2014 میں عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد اس نے اپنی مد نظر خلاف کا اعلان کر دیا۔ ان اقدامات سے داعش کا شکست خوردہ چہرہ دنیا کے کے سامنے آ گیا۔ اس کے بعد اس گروہ نے دھیر دھیرے اپنی طاقت میں اضافہ کیا اور پھر جوانوں کو اپنی صفوف میں شامل کرنا شروع کر دیا لیکن یہ حالات زیادہ عرصے تک جاری نہيں رہ سکے اور 2015 کے آخر میں عراق اور شام کی حکومت اور اس کے علاقائی حامی علاقے میں داعش کی پیشرفت کو کسی حد تک روکنے میں کامیاب رہے۔
2015 اور 2016 کے برسوں میں داعش کے ہاتھ سے اس کے زیر کنٹرول ایک چوتھائی علاقے نکل گئے۔ ان علاقوں عراق کے تکریت، فلوجہ اور رمادی تھے جبکہ شام کے حلب اور پالیمیر یا تدمر کے علاقے میں داعش کے بڑھتے قدموں کو روک دیا ہے۔ ان علاقوں پر ملک کی فوج اور علاقائی اتحادیوں کے قبضے سے داعش کے مالی ذرائع پر بھی روک لگ گئی اور غیر ملکیوں کے داعش کی صفوف میں شامل ہونے کا سلسلہ بھی کسی حد تک رک گیا۔
ان حالات نے داعش کے حالات کو کسی حد تک تبدیل کرکے رکھ دیا اور یہ گروہ کچھ محدود علاقوں تک ہی سمٹ کر رہ گیا۔ اس طرح سے شام کے شمال میں داعش کے دار الحکومت رقہ اور حلب اور عراق کے موصل میں داعش کی سرنگونی کا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا ہے۔
ان تمام صورتحال کے باوجود یہ نہیں کہا جا سکتا کہ داعش کا خاتمہ ہو رہا ہے اور یہ گروہ مشرق وسطی کے سیاسی نقشے سے مٹ جائے گا کیونکہ یہ گروہ، دوسرے علاقے کی تبدیلیوں پر منحصر ہے اسی لئے ممکن ہے کہ وہ اپنی دوسری چھاونیاں بنائیں گے اور اپنی پیشرفت کرے گا۔ جیسا کہ اس گروہ نے عراق میں القاعدہ کی جگہ لے لی ممکن ہے کہ لیبیا، جزیرہ سینا، یمن اور سعودی عرب کے کچھ علاقوں میں جزیرہ سعودی عرب میں القاعدہ کا جانشین بن جائے۔ یہ علاقے اگر چہ مادی اور سیمبولک لحاظ سے داعش کی حکمت عملی اور اس کے اہداف کو پورا کرنے والے نہیں ہیں لیکن اس کے عوض میں اپنی تشہیر، ٹریننگ اور پروگرام جاری رکھنے کے لئے ایک منظم چھاونی تشکیل دے سکتا ہے۔
اس معنی میں کہ داعش کے دنیائے عرب میں ناراضگی اور دنیا میں دہشت گردی کو پھیلانے والوں کے طور پر پہچانا جائے گا۔ کہا جاتا ہے داعش نے شرم الشیخ سے پرواز کرنے والے روسی مسافر طیارے کو دھماکے سے اڑایا ہے۔ دور کے دشمن کے خلاف اپنے زیر کنٹرول علاقے کے باہر داعش کی یہ بے نظیر کاروائی تھی۔
دوسرے الفاظ میں داعش کے ہاتھ سے نکلنے والے علاقوں کے مد نظر یہ گروہ اپنی موجودگی کا اعلان کرنے کے لئے بڑی کاروائی کر سکتا ہے۔ اس گروہ کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس نے القاعدہ کے تجربات حاصل کر لئے ہیں اسی لئے یہ گروہ القاعدہ کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے طریقے سے دنیا کے مختلف علاقوں میں حملے کرتا رہا ہے۔
بہرحال اگر داعش کی زمینی چھاونی نہیں ہوگی تو کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا لیکن اس گروہ کی تشکیل میں جس انتہا پسندی اور شدت پسندانہ عقائد کا استعمال کیا گیا ہے وہ باقی رہے گا۔
کل ملا کر یہ کہا جا سکتاہے کہ داعش کی شکست کی وجہ سے اس گروہ کے اعتقادات کسی حد تک ماند پڑ جائیں گے لیکن یہ اعتقادات پوری طرح نابود نہیں ہوں گے۔