الوقت - امریکا کی ایک میگزین نے رپورٹ دی ہے کہ ایران سے مقابلہ کرنے کے لئے سعودی عرب کی جانب سے بے پناہ سرمایہ گزاری کے باوجود تہران کے مقابلے میں ریاض کے جارح رویے سے نہ صرف کوئی مطلوب نتجہ برآمد ہوگا بلکہ اس میں بھی سعودی عرب شکست کھا جائے گا۔
امریکی میگزین نیشنل اینٹر سیٹ نے ایران سے مقابلے کے لئے سعودی عرب کی کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ ریاض نے بنیاد طور پر ایران کو پیچھے کرنے کے لئے جنگجو گروہوں کی مدد کا سہار لیا ہے ۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی نئی جارح پالیسیوں سے علاقے میں مزید خطرات پیدا ہو جائیں گے اور یہ مسئلہ ایسا ہو جائے گا کہ سعودی عرب کے کنٹرول سے بھی خارج ہو جائے گا۔ امریکا میگزین کہتی ہے کہ موجود وقت میں سعودی عرب کی نئی پالیسی، ایران کے ساتھ نیابتی جنگ جاری رکھنے کی ہے تاکہ اس طرح سے وہ تہران کی علاقائی طاقت کو کمزور کر سکے اور اس کو پیچھے کر سکے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کے جوان رہنما، علاقے کے مسائل پر ایران سے شدید اختلاف نظر رکھتے ہیں اور ہر طرح سے ایران کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔ نیشنل اینٹرسیٹ نے اس جملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ایران کو کمزور کرنے اور اس کو کئی سو سال پیچھے کرنے کے لئے سعودی عرب کی خارجہ پالیسی سلفی گروہوں کی حمایت پر مبنی ہے تاکہ اس طرح سے وہ علاقے میں ایران کی حامی حکومتوں کے لئے چیلنجز کھڑے کر سکے۔
سعودی عرب اپنے اہداف کو آگے بڑھانے کے لئے شام میں نصرہ فرنٹ اور داعش جیش الاسلام اور فری سیرین آرمی سمیت شام کے مسلح حکومت مخالفین کی حمایت کر رہا ہے کیونکہ سعودی عرب، شام کی حکومت کو ایران کی حکمت عملی کی کامیابی ترپ کا پتا سمجھتی ہے۔ دوسری جانب حکومت ریاض، عراق میں سنیوں کی حمایت کرکے، اس میں شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان شگاف پیدا کرنے کی کوشش میں ہے۔ شام اور عراق میں اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے سعودی عرب کی حکومت ایران پر دباؤ ڈالنا چاہتی ہے تاکہ وہ یمن اور علاقے کے دوسرے مسائل پر سنبھل کر قدم اٹھائے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ داخلی لحاظ سے بھی سعودی عرب، ایران کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے اس کے لئے اس نے ایران کے کچھ حکومت مخالف گروہوں اور اسی طرح ایم کے او کی حمایت شروع کر دی ہے۔ اسی طرح وہ کرد اور بلوچ جیسے کچھ علیحدگی پسند گروہوں کی بھی کھل کر حمایت کر رہا ہے، ایران کو کمزور کرنے کے لئے سعودی عرب کی پالیسی کا یہ نیا پہلو ہے۔
امریکا کی یہ میگزین نے ایران کے بارے میں سعودی عرب کے اس رویے کو بیان کیا اور لکھا کہ نو جولائی کو سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ ترکی الفیصل کی ایم کے او دہشت گرد گروہ کی کانفرنس میں شرکت اور ایران کا تختہ الٹنے کے ان کے مطالبے سے پتا چلتا ہے کہ ایران کو کمزور اور پیچھے کرنے کے لئے سعودی عرب نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔
یہ میگزین پیرس میں فلسطینی انتظامیہ سے سربراہ محمود عباس اور ایم کے او کی سرغنہ مریم رجوی کے درمیان گزشتہ کچھ مہینے پہلے ہونے والی ملاقات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھتی ہے کہ فلسطینی انتظامیہ کی مالی حمایت کرنے والے کی حیثیت سے سعودی عرب نے اس ملاقات کو ممکن بنایا اور یہ ایران کی توہین کے مترادف تھی۔
ایران کے خلاف سعودی عرب کی مخاصمانہ پالیسیوں کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے پتا چلتا ہے کہ ان مواقف کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے اور جیسا کہ صدام نے ایران پر دباؤ ڈالنے کے لئے ایم کے او پر بہت زیادہ سرمایہ کاری کی لیکن اس کو کوئي فائدہ نہیں ہوا اسی طرح ایران کے مقابلے میں سعودی عرب کو بھی منہ کی کھانی پڑے گی۔