الوقت کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے نائب وزیر خارجہ عتیق اللہ عاطف مل نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان کی فوج عالمی تعلقات اور اچھی ہمسائگي کے اصول پامال کرتی رہے گي تو دونوں ملکوں کے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ سرحد پر حملوں کے جاری رہنے سے کابل اور اسلام آباد کے تعلقات پر منفی اثرات پڑسکتے ہیں۔ کابل حکومت پاکستان کو ان حملوں کا ذمہ دار قراردیتی ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ افغانستان میں پاکستان کے خلاف نفرت کے جذ بات میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستانی حکومت کی پالیسیوں پر افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ کی جانب سے شدید تنقید کے بعد بعض حلقوں نے حکومت پاکستان کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ان حالات میں اس بات میں کوئي شک نہیں ہے کہ بعض عسکریت پسند اور دہشت گرد گروہ جو افغانستان اور پاکستان کے تعلقات خراب کرنے کے درپے ہیں وہ ان ملکوں کی مشترکہ سرحدوں پر مزید تشدد آمیز اقدامات کرکے ان کےتعلقات کومزید خراب کرسکتے ہیں۔
